پمز سانحہ، ابتدائی جائزہ رپورٹ مکمل، انتظامی و طبی شعبوں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کی نرسری میں گزشتہ ماہ ہونے والی ہولناک آتشزدگی اور 14 نومولود بچوں کی اموات کے افسوسناک واقعے کی ابتدائی جائزہ رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے۔

وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں پیش آنے والے سانحے کے بعد اسپتال کے انتظامی اور طبی نظام کا جائزہ لینے کے لیے اسسمنٹ کرائی گئی، جس کی ابتدائی رپورٹ اب تیار ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے تیار کی گئی اسسمنٹ رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ کے حوالے سے مختلف بے ضابطگیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں اسپتال کے مختلف اہم شعبوں کی کارکردگی، انتظامی امور اور سہولیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بے ضابطگیاں صرف اسپتال کے انتظامی شعبے تک محدود نہیں بلکہ نرسنگ، کلینیکل اور بائیومیڈیکل شعبوں میں بھی مختلف خامیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ جائزہ لینے والی ٹیم نے مختلف شعبوں کے انتظامی اور تکنیکی امور کا جائزہ لیتے ہوئے ان پہلوؤں کی نشاندہی کی جن میں مزید بہتری اور مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے۔

ابتدائی جائزہ رپورٹ جلد وفاقی وزیر صحت کو پیش کی جائے گی۔ اس کے بعد اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کی نگرانی میں متعلقہ شعبوں کے سبجیکٹ اسپیشلسٹس پمز اسپتال کا تفصیلی معائنہ کریں گے۔

ذرائع کے مطابق تفصیلی انسپکشن کے دوران اسپتال کے انتظامی، طبی، نرسنگ اور بائیومیڈیکل نظام کا مزید باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ اس معائنے کے بعد سامنے آنے والی سفارشات اور رپورٹ کی بنیاد پر پمز اسپتال کی انتظامیہ کو نظام میں بہتری لانے، موجود خامیوں کو دور کرنے اور حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہدایات جاری کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ پمز کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی اموات کے بعد اسپتال کے حفاظتی انتظامات، نرسری کی سہولیات، انتظامی نگرانی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ واقعے کی وجوہات اور اسپتال کے مجموعی نظام کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کی زیر نگرانی اسسمنٹ کرائی گئی۔

اس جائزہ ٹیم میں سرجیکل، میڈیکل، ایڈمن، نرسنگ اور بائیومیڈیکل شعبوں کے ماہرین شامل تھے۔ ابتدائی رپورٹ کے بعد ہونے والی تفصیلی انسپکشن کو پمز اسپتال کے نظام میں بہتری کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ حتمی سفارشات سامنے آنے کے بعد اسپتال انتظامیہ کے لیے مزید اقدامات اور اصلاحات کی ہدایات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔