سکھر:روہڑی کی رہائشی مسماۃ فرح دیبا شاہ نے اپنی بیٹی پر مبینہ گھریلو تشدد اور اسے حبسِ بے جا میں رکھنے کے خلاف میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی رابیل فاطمہ کی شادی باقاعدہ رضامندی کے ساتھ محمد بلال عرف روکی شاہ کے ساتھ انجام پائي تھی، تاہم شادی کے کچھ ہی عرصے بعد حالات حالات خراب ہو گئے اور داماد کا رویہ انتہائی ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہو گیا۔ متاثرہ خاتون کے مطابق محمد بلال اپنی اہلیہ کو نہ صرف بلاجواز تشدد اور مارپیٹ کا نشانہ بناتا ہے بلکہ اسے گھر کے اندر قید کرکے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھ رہا ہے، جس کی وجہ سے پورے خاندان میں شدید بے چینی اور خوف کی فضا قائم ہے۔
متاثرہ ماں نے مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ سے زائد کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن سنگدل داماد نے ان کی بیٹی سے ملاقات کے تمام راستے بند کر رکھے ہیں۔ انہوں نے روتے بتایا کہ نہ تو انہیں بیٹی کے پاس جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی موبائل فون کے ذریعے رابطہ کرنے دیا جاتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث والدین اور دیگر عزیز و اقارب کو رابیل فاطمہ کی جان، وہ صحت اور سلامتی کے حوالے سے شدید ترین خدشات لاحق ہو رھے ہیں ۔ وہ اس بات پر مسلسل پریشان ہیں کہ ان کی لختِ جگر اس وقت کس کربناک اور تکلیف دہ حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فرح دیبا شاہ نے ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی سکھر، علاقہ معززین اور دیگر تمام متعلقہ اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملي کا فوری طور پر نوٹس لیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کی رٹ قائم کرتے ہوئے ان کی بیٹی کو ظلم کی چکی سے آزاد کرایا جائے اور والدین کو ان کی بیٹی سے ملاقات اور بات چیت کرنے کا یقینی حق دلایا جائے تاکہ خاندان کی بے چینی اور شدید ذہنی اذیت کا خاتمہ ہوسکے