شرجیل میمن نے وزارتِ توانائی کو بدترین گورننس کا نمونہ قرار دے دیا

کراچی:سندھ کے سینئر وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کی وزارتِ توانائی کو بدانتظامی اور بیڈ گورننس کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایوان کے اندر اور باہر حکومتی کارکردگی پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض محکموں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور عوام کو درپیش مسائل کا فوری حل ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی قیادت میں صوبائی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن بعض سطحوں پر انتظامی کوتاہیاں پالیسیوں کے نفاذ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

صوبائی وزیر نے اپنے خطاب کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت لائے بغیر عوام کی مشکلات کا ازالہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سرکاری اداروں میں میرٹ کی بالادستی اور افسر شاہی کی سستی کو ختم نہیں کیا جاتا، عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے دعوے ادھورے رہیں گے۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومت اپوزیشن کی جائز تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے اور عوامی مفاد کے منصوبوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ توانائی سمیت تمام محکموں کی کارکردگی کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ صوبے بھر میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے اور صارفین کو بلاتعطل بجلی و گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔