اسلام آباد:وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ دنوں میں جنم لینے والی سیاسی کشیدگی اور اہم قانون سازی کے معاملے پر پائے جانے والے تحفظات بالآخر پس پردہ رابطوں کی بدولت دور ہو گئے ہیں۔ باخبر سیاسی اور پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اتحادی جماعتوں کے مابین پیدا ہونے والے ڈیڈلاک کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ چند روز سے اعلیٰ سطح پر جو کوششیں جاری تھیں، دونوں فریقین کے درمیان تمام اہم امور پر مفاہمت طے پا گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ تناؤ کی بنیادی وجہ بعض اہم قانون سازی کے مسودات اور انتظامی فیصلوں میں پیپلز پارٹی کو اعتماد میں نہ لینا تھا، جس پر بلاول بھٹو زرداری اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ تاہم، وزیراعظم شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی زیر قیادت دونوں جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کے درمیان ہونے والی نتیجہ خیز ملاقاتوں اور بیک ڈور ڈپلومیسی کے نتیجے میں تمام غلط فہمیاں خوش اسلوبی سے دور کر لی گئی ہیں۔
مفاہمت کے اس نئے دور کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل بلا تعطل جاری رہے گا اور اتحادی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے لیے پورے عزم کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پیپلز پارٹی کی ناراضگی ختم ہونے سے نہ صرف حکومتی اتحاد کو استحکام ملے گا بلکہ ملک میں جاری معاشی و سیاسی بے یقینی کے بادل بھی چھٹنے میں مدد ملے گی، جو کہ ملکی مفاد میں ایک انتہائی خوش آئند قدم ہے۔