پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول شیخ شبیر اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان نے ان کی گاڑی پر شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق مقتول کو متعدد گولیاں لگیں جو ان کی جان لیوا ثابت ہوئیں۔ پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ضابطے کی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال کے مردہ خانے منتقل کر دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اور دیگر اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، اس واقعے پر سیاسی شخصیات اور ن لیگی قیادت کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی اور صوبائی رہنمائوں نے شیخ شبیر کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امن و امان کی خراب صورتحال خراب قرار دیا ہے۔ پارٹی قیادت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملوث اصل محرکات اور مجرموں کو فوری طور پر بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا ہے ۔ مریدکے اور گردونواح کے علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور ناکہ بندی کر کے فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔