تہران:ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خطے میں جاری کشیدگی اور بحران کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کا حصول یمن کی آزادی، ارضی سالمیت اور خودمختاری کے مکمل احترام کے بغیر ممکن نہیں۔ تہران میں جاری ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کے عوام کو حق خود ارادیت حاصل ہونا چاہیے اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے جو خطے کے امن کو خراب کرنے کا باعث بنے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ یمنی بحران کے سیاسی حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور یمن کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات اٹھائے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق ایران کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہی ہے اور مسلم ممالک کے باہمی تعلقات میں استحکام کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک نے بھی یمن میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران کا یہ موقف خطے میں جاری تنازعات کے پرامن حل کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جس سے نہ صرف یمن کے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر بھی یمن کی سالمیت اور آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ تہران خطے کے تمامم ممالک کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور اشتعال انگیز کارروائیوں کی ہمیشہ مخالفت کرتا آیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمن کے عوام کو خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے اور وہاں جاری انسانی بحران کا واحد حل تمام فریقین کے مابین جامع اور منصفانہ بات چیت میں پوشیدہ ہے۔ ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں امن و امان کے فروغ اور تمام تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ خطے کے عوام ایک پرامن اور خوشحال مستقبل سے مستفید ہو سکیں، اور بیرونی مداخلت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے۔