بھارت میں برکس اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے ایک بھارتی میڈیا انٹرویو کے دوران پاکستان کے خلاف الزام تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ بھارتی صحافی نے پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان پر ریاستی دہشتگردی کا الزام عائد کروانے کی کوشش کی، تاہم ملائیشین وزیراعظم نے اس دعوے کی حمایت نہیں کی اور واضح موقف اختیار کیا۔انٹرویو کے دوران میزبان نے پاکستان کو بھارت میں ہونے والے مبینہ دہشتگرد واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر انور ابراہیم نے کہا کہ وہ وزیراعظم کی حیثیت سے انہی حقائق اور معلومات کی بنیاد پر بات کر سکتے ہیں جو متعلقہ ریاستی اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی ہوں۔ملائیشیا کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملائیشیا کے انٹیلی جنس اداروں نے کبھی ایسی کوئی رپورٹ پیش نہیں کی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ پاکستان بھارت میں کسی ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے۔ اس طرح انہوں نے بھارتی صحافی کی جانب سے پاکستان پر الزام لگوانے کی کوشش کو واضح طور پر تسلیم کرنے سے گریز کیا اور معاملے کو مصدقہ حقائق اور دستیاب سرکاری معلومات سے مشروط رکھا۔انور ابراہیم کا یہ موقف پاکستان کے حوالے سے ایک اہم سفارتی بیان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بھارتی میڈیا کے سوال کے باوجود انہوں نے کسی ملک کے خلاف بغیر ثبوت الزام عائد کرنے سے گریز کیا۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ ایسے حساس معاملات میں قیاس آرائی کے بجائے قابلِ اعتماد معلومات اور متعلقہ اداروں کی رپورٹس کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔انٹرویو کے دوران ملائیشین وزیراعظم نے فلسطین کی صورتحال پر بھی سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے اور نہتے فلسطینی عوام پر جاری بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے فلسطینی عوام کو درپیش انسانی مشکلات اور عام شہریوں کے تحفظ کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انور ابراہیم کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائیشیا حساس علاقائی معاملات میں شواہد اور مصدقہ معلومات کو اہمیت دینے کی پالیسی پر زور دیتا ہے، جبکہ فلسطین کے معاملے میں انہوں نے انسانی حقوق اور عام شہریوں کے تحفظ کی حمایت کی۔