اسلام آباد:وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر اعلیٰ سطح پر اس بات کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے بقیہ پورے عرصے تک بلا تعطل جاری رہ سکتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے کلیدی عہدیداروں، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس اور نامزد وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شامل ہیں، نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ دور رس نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بھی کھلبلی مچا دی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی محاذوں پر سنگین جنگی بحران کی زد میں ہے۔
واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، امریکی پالیسی سازوں کے درمیان اس نکتے پر شدید بحث جاری ہے کہ تہران کے ساتھ پائیدار سفارتی حل تلاش کیے بغیر تناؤ کو کیسے کم کیا جائے۔ امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے بعض حلقے عسکری دباؤ برقرار رکھنے کے حامی ہیں جبکہ کچھ مشیر خطے میں مزید جنگی الجھاؤ سے بچنے کے لیے محدود سفارتی روابط کی وکالت کر رہے ہیں۔ اس اندرونی ڈیڈلاک کی وجہ سے پالیسی سازی میں ابہام پایا جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور خطے میں امن و امان پر پڑ رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی محاذ آرائی عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، اس تنازعے کے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد کے سفارتی مبصرین کے مطابق، پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن اور کشیدگی میں کمی کا حامی رہا ہے کیونکہ کسی بھی بڑی جنگ یا طویل بحران کی صورت میں توانائی کے بحران اور مہنگائی میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے مسلسل یہ زور دیا جا رہا ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے معاملے پر اپنی حکمت عملی میں کیا تبدیلیاں لاتی ہے اور آیا یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کرتا ہے یا سفارتی سطح پر معاملہ حل سامنے آتا ہے۔