اسلام آباد:مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص امریکہ اور ایران کے مابین تعلقات میں تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورتحال نے عالمی معیشت کے لیے نئے خدشات کو جنم دیا ہے، کیونکہ توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں خلل پڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
کراچی:
کاروباری حلقوں کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں ساڑھے سات فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو کہ حالیہ مہینوں میں ایک ہی دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس بلند اضافے کے بعد پاکستان سمیت تمام درآمدی ممالک کے لیے تیل کی خریداری کا مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا، جس سے ملکی سطح پر مہنگائی کی نئی لہر آنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
لاہور:معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی ڈیڈلاک اور کشیدگی کا یہ سلسلہ طویل ہوتا ہے، تو تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کے نگران اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر متبادل توانائی کی حکمت عملی اور ہنگامی اقدامات پر غور کرنا ہوگا تاکہ عام صارف پر اس کا کم سے کم بوجھ پڑے اور درآمدی بل کو قابو میں رکھا جا سکے۔