اسلام آباد:بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی فوج نے اردن میں واقع اہم ترین موافق سلطی ایئر بیس سے اپنے عسکری ہیلی کاپٹروں کی دیگر مقامات پر منتقلی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے نے خطے میں جاری کشیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تناظر میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سکیورٹی خدشات اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر امریکی عسکری حکمت عملی میں یہ تبدیلی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق، اردن کے موافق سلطی ایئر بیس سے نقل و حمل کا یہ عمل گزشتہ چند روز کے دوران تیز دیکھا گیا ہے۔ تاہم، تاحال امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) یا اردن کی حکومت کی جانب سے اس بابت کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس ائیر بیس کو خطے میں امریکی فضائی کارروائیوں اور رسد کی فراہمی کے لیے کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے، اور یہاں سے اثاثوں کی منتقلی کسی بڑے اسٹریٹجک ری الائنمنٹ کا حصہ ہو سکتی ہے۔
خطے کے مجموعی امن اور عسکری پوزیشننگ کے حوالے سے پاکستانی دفاعی تجزیہ کار بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی فوجی نقل و حرکت براہِ راست یا بالواسطہ طور پر عالمی توانائی کی سپلائی لائنز اور علاقائی استحکام کو متاثر کرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں خطے کے اندر عسکری و اقتصادی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث عالمی طاقتیں اپنی دفاعی تنصیبات کو از سر نو منظم کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔