مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خونی تنازع کے دوران صحافیوں کو بھی کھلے عام نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ جنوبی لبنان کے تاریخی اور اہم شہر نبطیہ میں اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیا ٹیم کو اس وقت ڈرون حملے کا نشانہ بنایا جب وہ ایک جاری حملے کی براہ راست نشریات کی تیاری کرنے میں مصروف تھی۔ اس لرزہ خیز واقعے کے نتیجے میں لبنان کے نجی ٹی وی چینل ‘المنار’ کے رپورٹر اور کیمرہ مین شدید زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق المنار ٹی وی کی پروڈکشن اور نشریاتی ٹیم اسرائیلی بمباری سے متاثرہ علاقے میں زمینی صورتحال کو براہ راست دنیا تک پہنچانے کے لیے موجود تھی۔ ٹیم جب اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کی تیاری کر رہی تھی تو غاصب صیہونی فوج کے ڈرون نے عین اسی مقام پر میزائل داغ دیے۔ اس دل دہلا دینے والے حملے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آ گئی ہے جس میں دھماکے کی شدت اور اس کے بعد پیدا ہونے والی خوف و ہراس کی فضا کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد صحافتی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے
اس لرزہ خیز حملے کے بعد عالمی سطح پر ایک بار پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کیوں نہیں کروایا جا رہا۔ اقوام متحدہ اور مختلف عالمی میڈیا تنظیموں نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے جنگی جرائم کے زمرے میں قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر ان میڈیا اداروں کو نشانہ بنا رہا ہے جو اس کی جارحیت اور جنگی جرائم کی حقائق دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں، جو کہ آزادی صحافت پر براہ راست حملہ ہے۔