گھوٹکی: ملہن شر تشدد کیس، عدالت نے سابق ایس ایچ او کی ضمانت مسترد کردی

گھوٹکی:سندھ کے ضلع گھوٹکی کی ایک عدالت نے دیہاتی ملہن شر پر مبینہ تشدد، بدترین تذلیل اور غیر قانونی حراست کے ہائی پروفائل مقدمے میں سابق ایس ایچ او قابل بھیو سمیت تین پولیس اہلکاروں کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ اس اہم عدالتی فیصلے کے بعد ضلع کی عدالتی و سیاسی فضا میں ہلچل مچ گئ ہے، کیونکہ اس مقدمے میں پولیس افسران کی مبینہ زیادتیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے

عدالت کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے فورا بعد ملزم سابق ایس ایچ او قابل بھیو اور دیگر دونوں نامزد پولیس اہلکاروں، نثار مہر اور ولی محمد میرانی، کی جانب سے مبینہ طور پر احاطہ عدالت سے فرار ہونے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران کمرہ عدالت اور احاطے میں شدید ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ موقع پر موجود متاثرہ ملہن شر کے حامیوں اور شر برادری کے افراد نے بروقت حکمت عملی اپناتے ہوئے سابق ایس ایچ او کو دبوچنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہاں شدید ہاتھا پائی ہوئی اور ملزم کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔ صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے عدالتی پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے ملزمان کو ہجوم کے نرغے سے نکالا اور تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے ایک محفوظ کمرے میں بند کر دیا، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے عدالت کے احاطے میں شدید کشیدگی اور بدنظمی کی کیفیت طاری رہی۔

واقعے کے بعد احاطہ عدالت میں میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ دیہاتی ملہن شر نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق ایس ایچ او قابل بھیو اور ان کے دیگر ساتھیوں کی ضمانتیں مسترد ہونے کے باوجود پولیس کا ایک طبقہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے مبینہ طور پر فرار کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ متاثرہ دیہاتی نے اعلیٰ عدلیہ، آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے فوری اور سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں باضابطہ طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق قرار واقع سزا دی جائے تاکہ مظلوم شہریوں کو انصاف کی فراہمی ممکن بوسکے۔