پاکستانی معیشت کے لیے ایک اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عالمی معاشی تحقیقاتی ادارے فچ کی ذیلی تنظیم بی ایم آئی (BMI) نے پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں رواں سال قدر میں نمایاں کمی کی اپنی سابقہ پیشگوئی واپس لے لی ہے۔ نئی پیشگوئی کے مطابق پاکستانی روپے کے حوالے سے معاشی صورتحال پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔
بی ایم آئی نے اپنی تازہ رپورٹ میں 2026 کے اختتام تک امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر 288 روپے فی ڈالر تک پہنچنے کے سابقہ اندازے کو تبدیل کر دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اب پاکستانی روپیہ رواں سال کے دوران تقریباً 278 روپے فی امریکی ڈالر کے قریب مستحکم رہنے کا امکان رکھتا ہے۔ اس تبدیلی کو پاکستان کی معیشت اور زرمبادلہ کی صورتحال میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بلند شرح سود بھی روپے کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بلند شرح سود کے باعث ملکی مالیاتی منڈی میں روپے کے اثاثوں کی کشش برقرار رہنے اور غیر ضروری دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ملک میں زرمبادلہ کی آمد اور بیرونی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستانی کرنسی پر دباؤ مزید کم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے زرم