سڈنی: آسٹریلوی حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال کو مزید شفاف بنانے اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک انتہائی اہم اور انقلابی قانون سازی کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی تجویز کے تحت سوشل میڈیا صارفین کو یہ مکمل اختیار دینے کی سفارش کی گئی ہے کہ وہ خود یہ طے کر سکیں کہ ان کی نیوز فیڈ میں کس قسم کا مواد اور کون سی خبریں دکھائی جائیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی کمپنیوں کے من مانے الگورتھم پر قابو پانا اور صارفین کو ڈیجیٹل اسپیس پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عالمی سطح پر سوشل میڈیا انڈسٹری کے ضابطہ کار میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جہاں بڑی ٹیک کمپنیاں طویل عرصے سے اپنے اشتہاری مفادات کے تحت مواد کی تشہیر کرتی چلی آ رہی ہیں۔
کینبرا:
مجوزہ قانون سازی کے مسودے کے مطابق، تمام بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے ڈیفالٹ الگورتھم اور فیڈ سسٹم کے بارے میں صارفین کو مکمل اور واضح معلومات فراہم کریں۔ کمپنیاں اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ صارفین کو ایسے آسان آپشنز مہیا کریں جن کے ذریعے وہ اپنی مرضی کے مطابق مواد کی ترجیحات کا انتخاب کر سکیں۔ اس سے نہ صرف صارفین کی ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈالنے والے مواد کی روک تھام ہوگی بلکہ غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات کی پھیلائو کو بھی موثر طریقے سے روکا جا سکے گا۔ حکومت کی جانب سے اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ قانون پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے.
سڈنی:
آسٹریلوی وزارتِ مواصلات اور ڈیجیٹل اکانومی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز جدید دور کے ڈیجیٹل چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہو چکی تھیں۔ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے منفی استعمال، بالخصوص کم عمر صارفین پر اس کے اثرات اور غلط معلومات کے طوفان نے حکومتوں کو سخت اقدامات پر مجبور کیا ہے۔ آسٹریلیا اس سے قبل بھی بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر عمر کی حد مقرر کرنے جیسے سخت قوانین پیش کر چکا ہے، اور اب یہ تازہ ترین قدم اس عزم کا تسلسل ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق اور ڈیجیٹل سوسائٹی کے حامی اداروں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دیگر ممالک کو بھی اپنی پالیسیاں تشکیل دینے میں مدد ملے گی اور کارپوریٹ اداروں کی اجارہ داری کو توڑنے میں اہم پیش رفت ہوگی۔