جناح ہاؤس پر حملے کے مقدمے کا جیل میں ہی ٹرائل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت نے ملزمان کا جیل میں ٹرائل کرنے کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ تمام ملزمان کا ٹرائل لاہور کی سینٹرل جیل میں ہوگا، عمران خان، یاسمین راشد ،عمر سرفراز چیمہ، محمودالرشید، اعجاز چوہدری ،صنم جاوید، عالیہ حمزہ اور خدیجہ شاہ سمیت 368 ملزمان کا ٹرائل جیل میں روازنہ کی بنیاد پر ہوگا، اس کے علاوہ عسکری ٹاور اور تھانہ شادمان حملے کے مقدمات کا ٹرائل بھی سنٹرل جیل لاہور میں ہوگا ادھر انسداد دہشت گردی عدالت میں جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے اسد عمر،علیمہ خان اور عظمٰی خان کی گرفتاری مانگ لی، جہاں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تینوں ملزمان تفتیش میں قصور وار پائے گئے، جے آئی ٹی نے تینوں کو گنہگار لکھا ہے، پولیس کو تینوں کی گرفتاری مطلوب ہے، علیمہ خان کی موقع پر موجودگی پائی گئی اس کے علاوہ جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کیس میں فرخ حبیب، حماد اظہر، میاں اسلم اقبال اور مراد سعید کو اشتہاری قرار دے دیا گیا، علی امین گنڈا پور،اعظم سواتی اور عندلیب عباس سمیت دیگر ملزمان بھی اشتہاری قرار دے دئیے گئے ہیں، انسداد دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل نے ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جب کہ اس سے پہلے عدالت نے ملزمان کیخلاف نا قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، ملزمان کیخلاف تھانہ سرور روڈ میں مقدمہ درج ہے چند روز قبل انسدادِ دہشت گردی عدالت میں جناح ہاؤس سمیت 11 مقدمات کا چالان جمع کروایا گیا تھا، انسدادِ دہشت گردی عدالت میں عمران خان، عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسیمین راشد، میاں محمود الرشید، صنم جاوید اور خدیجہ شاہ سمیت دیگر کیخلاف مقدمات کا چالان جمع کروایا گیا، چالان میں عمران خان سمیت دیگر کو جناح ہاؤس، عسکری ٹاؤر اور شیرپاؤ پل سمیت 11 مقدمات میں قصور قرار دیا گیا