سکھر:جمعیت علماء اسلام سندھ کے زیر اہتمام 19، 20 اور 21 مارچ کو سکھر میں منعقد ہونے والی ‘انٹرنیشنل پیس کانفرنس’ کو تاریخی اور شایانِ شان بنانے کے لیے صوبائی کمیٹیوں کا ایک اہم اجلاس مرکز باب الاسلام سکھر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری مولانا محمد صالح انڈہڑ نے کی، جبکہ مرکزی رہنماؤں علامہ ناصر محمود سومرو اور مفتی سعود افضل ہالیجوی نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں کانفرنس کی تیاریوں، انتظامی امور، مختلف کمیٹیوں کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس دوران دنیا بھر کے مسلم اور غیر مسلم ممالک کے امن کے سفیروں کو اس عالمی اجتماع میں شرکت کی دعوت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی سندھ کے رہنماؤں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم ملک کو کمزور اور توڑنے کے مترادف ہے، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ رہنماؤں نے سعودی عرب پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، اور بجلی و گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو عوام کے لیے عذابِ جان قرار دیتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری مولانا محمد صالح انڈہڑ نے کہا کہ انٹرنیشنل پیس کانفرنس دنیا بھر میں امن، بھائی چارے، رواداری، انسانی اقدار اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ مرکزی رہنما علامہ ناصر محمود سومرو نے کہا کہ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے تمام ذیلی کمیٹیوں کے درمیان مضبوط رابطہ اور منظم حکمتِ عملی کے تحت کام جاری ہے۔ اجلاس میں مولانا عبداللہ مہر، ڈاکٹر اے جی انصاری، فقیر سکندر نقشبندی، مولانا محمد طیب میکہو، آصف علی مگسی، مولانا عبدالغفار چاچڑ، جمال الدین اوگاہی، مفتی عبدالباقی سومرو، مولانا عبدالحمید مہر، عبدالقیوم آرائیں، ایڈوکیٹ سعید احمد دستی اور محمد آصف مگسی سمیت مختلف اضلاع کے ذمہ داران کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔