کراچی: ملک کے معروف صنعتی ادارے یونٹی فوڈز کے مالیاتی اسکینڈل اور قانونی پیچیدگیوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت نے ادارے کے گرفتار کیے گئے چار موجودہ اور سابق اعلیٰ عہدیداروں کی درخواستِ ضمانت پر سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد ملزمان کے وکلاء عدالت میں ریلیف حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کے باعث ملزمان کی عدلیہ کی تحویل میں مدتِ تفتیش اور جیل یاترا میں مزید توثیق ہو گئی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق، یونٹی فوڈز کے جن نمایاں عہدیداروں کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی کی گئی ہے, ان میں جلیس ایدھی، عامر شہزاد، صفدر سجاد اور عبدالمجید غازیانی شامل ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے تفتیشی افسران نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے پختہ شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہے، لہذا اس مرحلے پر انہیں ضمانت دینا تفتیش کے عمل کو سبوتاز کرنے کے مترادف ہوگا۔
یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے یونٹی فوڈز کی سابقہ اور موجودہ انتظامیہ کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے کئی اہم شخصیات کو حراست میں لیا ہے، جن پر کارپوریٹ سیکٹر کے قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور مالیاتی ہیرا پھیری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دفاعی ٹیم اور استغاثہ کے درمیان دلائل کا سلسلہ جاری ہے، تاہم عدالت نے فریقین کو مزید تیاری کے لیے وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت بارہ ستمبر تک ملتوی کر دی ہے، جس کے بعد ہی ملزمان کی رہائی یا مزید قید سے متعلق حتمی فیصلہ متوقع ہے۔