سرکاری ڈیوٹی سے غیر حاضری پر 25 لیڈی میڈیکل افسران ملازمت سے برطرف

محکمہ صحت بلوچستان نے سرکاری فرائض میں غفلت اور طویل عرصے تک غیر مجاز غیر حاضری کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 25 لیڈی میڈیکل افسران کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے یہ اقدام صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حاضری اور فرائض کی بروقت انجام دہی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت بلوچستان نے ان لیڈی میڈیکل افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں ملازمت سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا۔ برطرفی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ لیڈی میڈیکل افسران سرکاری ڈیوٹی سے دانستہ اور غیر قانونی طور پر غیر حاضر رہیں، جس کے باعث ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ محکمہ صحت کے مطابق تمام قانونی اور محکمانہ تقاضے مکمل کرنے کے بعد برطرفی کی سزا نافذ کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کے سیکشن 4 (b) (vii) کے تحت کی گئی ہے۔ مذکورہ قانون کے تحت سرکاری ملازمین کی جانب سے فرائض میں غفلت، قواعد کی خلاف ورزی اور غیر مجاز غیر حاضری کی صورت میں محکمانہ تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔برطرف کیے جانے والے ڈاکٹرز میں سے بعض کوئٹہ کے سول اسپتال، بولان میڈیکل کمپلیکس جبکہ دیگر صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم سرکاری ہسپتالوں میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی عملے کی بروقت دستیابی مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، اس لیے ڈیوٹی سے غیر حاضری کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ملازمت سے فارغ کی جانے والی افسران میں ڈاکٹر سعدیہ، ڈاکٹر روبیہ اقبال خٹک، ڈاکٹر عفیہ حق، ڈاکٹر رؤاۃ العرفہ، ڈاکٹر پلوشہ علی، ڈاکٹر ملغلرا، ڈاکٹر فوزیہ حسنی، ڈاکٹر بینش ماجبین، ڈاکٹر کانتا دیوی، ڈاکٹر فخرہ جعفر، ڈاکٹر طیبہ افتخار، ڈاکٹر نادرہ ساتکزئی، ڈاکٹر صفیہ، ڈاکٹر سعدیہ خان ناصر، ڈاکٹر عائشہ، ڈاکٹر عائشہ عباد، ڈاکٹر اقرا اعجاز، ڈاکٹر مدینہ ریاض، ڈاکٹر گرہ ناز بلوچ، ڈاکٹر فاریہ ترین، ڈاکٹر شمع النساء، ڈاکٹر عارفہ صدیق، ڈاکٹر مریم احمد اور ڈاکٹر صبیحہ شامل ہیں۔
محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق سرکاری طبی