تہران/اسلام آباد: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے یمن کی تحریک انصار اللّٰہ کے حوالے سے عائد کردہ بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے ایسے الزامات کا سہارا لیا جا رہا ہے جن کا حقیقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تہران خطے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور یمنی عوام کے خلاف جاری جارحیت اور پروپیگنڈے کی شدید مذمت کرتا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ یمنی عوام نے مشکل ترین حالات میں اپنی خودمختاری کا دفاع کیا ہے اور بیرونی طاقتیں خطے کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کریں۔ امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات کو خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاش کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے بے بنیاد دعوے مشرق وسطیٰ کے نازک حالات کو مزید بگاڑنے کا باعث بن رہے ہیں۔ ایران نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں جاری انسانی بحران اور ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے نہ کہ جنگی جنون میں مبتلا طاقتوں کی حمایت کرے۔
عالمی امور کے ماہرین کے مطابق، انصار اللّٰہ اور امریکی قیادت کے درمیان لفظی جنگ میں تیزی کے بعد خطے میں سفارتی تناؤ میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک میں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ بحیرہ احمر اور خلیجی علاقوں میں امن پوری دنیا کی معیشت کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں تاکہ خطے کو کسی بھی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے جو عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔