تہران: ایرانی میڈیا کی جانب سے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں وہ ایک علمی و فکری نشست کی صدارت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر پہلی بار ان کی گفتگو اور آواز بھی سامنے آئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای ایک طالبعلم کے ’اسلامی سیکیورٹی ماڈل‘ سے متعلق تحقیقی مقالے کا جائزہ لیتے ہوئے اسے سراہتے نظر آ رہے ہیں۔
صحت سے متعلق قیاس آرائیوں کا پس منظر
یہ ویڈیو ایسے وقت میں منظر عام پر لائی گئی ہے جب عالمی اور علاقائی میڈیا میں ان کی صحت کے حوالے سے متضاد دعوے کیے جا رہے تھے۔ کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اپنے والد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہو گئے تھے اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔
اگرچہ ایرانی سرکاری میڈیا نے اس ویڈیو کے ذریعے ان افواہوں کی تردید کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم ویڈیو کے اصل وقت اور تاریخ کے غیر واضح ہونے کے باعث بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے ان کی موجودہ صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بیان
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مجتبیٰ خامنہ ای کی خراب صحت یا زخمی ہونے کی تمام خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی صدر کے مطابق ان کی رہبر معظم کے ساتھ طویل اور تفصیلی ملاقات ہوئی ہے اور وہ مکمل طور پر صحت مند اور اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔