خیرپور: سوراہ پولیس کے مبینہ تشدد اور بھتہ خوری سے تنگ محنت کش سڑکوں پر نکل آیا، انصاف نہ ملنے پر خودسوزی کا اعلان

سکھر / خیرپور (اسپیشل رپورٹر): خیرپور کی سوراہ پولیس جرائم پیشہ اور اشتہاری عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے کراچی میں روزگار کمانے والے ایک غریب محنت کش کے پیچھے پڑ گئی۔ مسلسل غیر قانونی گرفتاریوں، تشدد اور لاکھوں روپے رشوت وصولی کے بعد رہا ہونے والے محنت کش نے سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور انصاف نہ ملنے کی صورت میں ایس ایس پی آفس خیرپور کے سامنے خودسوزی کی دھمکی دے دی ہے۔
معاملے کا پس منظر اور الزامات
تفصیلات کے مطابق خیرپور کے علاقے سوراہ تھانے کی حدود، گینڈاہو چوکی کے قریبی گاؤں خیر محمد بھنبھرو کے رہائشی راحب علی ولد غلام نبی محمدانی نے صحافیوں کے سامنے دہائی دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کراچی کی ایک نجی فیکٹری میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ متاثرہ شخص کا الزام ہے کہ وہ جب بھی محنت مزدوری کر کے چھٹی پر اپنے آبائی گاؤں واپس آتا ہے تو گینڈاہو چوکی کا انچارج عطا حسن سوڈھرو، سپاہی نادر لغاری اور گلشن بھنبھرو کے ہمراہ اسے چوتھی بار بلاجواز حراست میں لے چکے ہیں۔
لاکھوں روپے رشوت اور تشدد کا انکشاف
متاثرہ محنت کش نے سنگین انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس اہلکار اسے تھانے کا ریکارڈ بنانے کے بجائے نجی و خفیہ ٹارچر سیلز میں رکھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور بھاری رقوم وصول کر کے رہا کرتے ہیں۔ راحب علی کے مطابق:
پہلی بار گرفتاری پر رہائی کے عوض 2 لاکھ 50 ہزار روپے رشوت لی گئی۔
دوسری مرتبہ 35 ہزار روپے بٹورے گئے۔
جبکہ مزید دو الگ الگ مواقع پر 50، 50 ہزار روپے لے کر چھوڑا گیا۔
عدالتی پٹیشن اور ‘ہاف فرائی’ کی دھمکیاں
راحب علی نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی اس غیر قانونی بلیک میلنگ کے خلاف اس نے سیشن کورٹ خیرپور میں باضابطہ قانونی پٹیشن داخل کر رکھی ہے، تاہم بااثر اہلکار عدالتی سماعتوں پر پیش ہونے سے گریزاں ہیں۔ اس نے الزام عائد کیا کہ کورٹ سے رجوع کرنے اور میڈیا کے پاس جانے پر ملوث پولیس اہلکار اسے جھوٹے مقابلے میں “ہاف یا فل فرائی” کرنے کی کھلی دھمکیاں دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس کا پورا خاندان شدید خوف اور غیر یقینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
اعلیٰ حکام سے تحفظ اور کارروائی کی اپیل
متاثرہ مزدور نے وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ گینڈاہو چوکی اور سوراہ تھانے کے ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری انکوائری کر کے انہیں معطل کریں اور اسے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس نے واضح انتباہ جاری کیا کہ اگر اس کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ نہ کیا گیا اور انصاف فراہم نہ ہوا تو وہ ایس ایس پی آفس خیرپور کے سامنے خود کو آگ لگا کر خودکشی کر لے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ پولیس اہلکاروں پر عائد ہوگی۔