مز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر لواحقین غم اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ جاں بحق ہونے والے دو نومولود بچوں کے ماموں طاہر خان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے انہیں دونوں بچوں کی سوختہ میتیں حوالے کردی ہیں۔طاہر خان کے مطابق اسپتال انتظامیہ کی جانب سے بچوں کا ڈی این اے بھی نہیں کرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ غریب لوگ ہیں اور ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں بچوں کی والدہ بھی اس وقت آئی سی یو میں زیر علاج ہیں، جس کے باعث خاندان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔بچوں کے ماموں نے بتایا کہ دونوں نومولود بچوں کی پیدائش تین روز قبل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے والد کو آرام کرنے کے لیے گھر بھیجا تھا، لیکن اسی دوران اسپتال میں افسوسناک سانحہ پیش آگیا۔دوسری جانب آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے ایک اور نومولود بچے کے والد ادریس خان نے بھی انتہائی افسوسناک واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کی پیدائش گزشتہ روز فجر کے وقت ہوئی تھی۔ انہوں نے بچے کے کان میں اذان دی اور اس کا نام بھی رکھا تھا۔ادریس خان نے بتایا کہ یہ بچہ چار سال بعد پیدا ہوا تھا اور بیٹا ہونے کی وجہ سے خاندان میں خوشی کا ماحول تھا۔ ان کے مطابق عملے نے بچے کو مزید دو سے ڈھائی گھنٹے نرسری میں رکھنے کا کہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ بچے کو لینے نرسری پہنچے تو گیٹ پر تالا لگا ہوا تھا اور اندر سے دھواں نکل رہا تھا، جبکہ وہاں کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔واضح رہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔