پمز اسپتال کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے سانحے کے ذمہ داروں کے تعین اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پمز سانحے کے ذمہ داروں کا فوری تعین کرکے ان کا کڑا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے وفاقی وزیر صحت سے سوال کیا کہ اسپتال کا انٹری گیٹ بند کیوں تھا اور فائر سیفٹی کا مناسب نظم کیوں موجود نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ وفاقی وزیر صحت ہوتیں تو اب تک استعفیٰ دے چکی ہوتیں۔یپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری نے بھی وفاقی وزارت صحت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزارت صحت صرف اسلام آباد کے اسپتال چلاتی ہے، اگر پورے ملک کے اسپتال اس کے ماتحت ہوتے تو صورتحال کیا ہوتی؟ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے بھی سانحے کا ذمہ دار وفاقی وزیر صحت کو قرار دیتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی وزیر صحت کے استعفے کے ساتھ سانے کے ذمہ دار افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ صرف تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینا اور روایتی بیانات جاری کرنا کافی نہیں، ذمہ داروں کے خلاف عملی کارروائی ہونی چاہیے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے بھی واقعے کو افسوسناک اور شرمناک قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے