ایف آئی آر کا چھوٹا فونٹ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی شدید برہمی

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی جانب سے درج کی جانے والی فرسٹ رپورٹس ایف آئی آر میں انتہائی باریک اور ناقابلِ فہم چھوٹے فونٹ کے استعمال پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عالیہ میں اس نوعیت کے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران جب چیف جسٹس کے سامنے ایف آئی آر کا متن پیش کیا گیا تو انہوں نے اس کی لکھائی کے سائز پر سخت تنقید کی۔ دورانِ سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی جانب سے اتنے چھوٹے سائز میں ایف آئی آر درج کی جاتی ہیں کہ عام آدمی تو دور کی بات، قانون کے ماہرین اور ججز کے لیے بھی اسے پڑھنا محال ہوتا ہے، یہاں تک کہ مکھیاں بھی اس لکھائی سے سائز میں بڑی ہوتی ہیں

عدالت نے اس بات پر بھی گہری تشویش ظاہر کی کہ انصاف کے حصول کے لیے پولیس اسٹیشن آنے والے عام سائلین اور سزاواروں کو پہلے ہی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اوپر سے ایف آئی آر کا متن اتنا مبہم اور باریک ہوتا ہے کہ مدعی یا ملزم اپنے خلاف یا حق میں درج الزامات کو پڑھنے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس امر پر زور دیا کہ عدالتی اور پولیس کے نظام میں شفافیت اور روآنی کے لیے ضروری ہے کہ ہر دستاویز عام فہم اور واضح انداز میں مرتب کی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے احسن طریقے سے پورے ہو سکیں۔مقدمے کی سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کی سربراہ نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ آئندہ سے پولیس اسٹیشنز میں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے معیاری اور پڑھنے کے قابل فونٹ سائز کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع پر قانونی حلقوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے چیف جسٹس عالیہ نیلم کے اس خوش آئند اور بروقت اقدام کو بھرپور سراہا گیا ہے، اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس فیصلے سے عام سائلین کے لیے قانونی کارروائیوں میں نمایاں آسانی پیدا ہوگی۔