اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر نیویارک میں خطے کے چار اہم ملک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے درمیان ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطحی سفارتی بیٹھک کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس چودہ رکنی یا چار ملکی مشورتی عمل کا بنیادی مقصد خطے میں پائیدار امن، باہمی تعاون کے فروغ اور سکیورٹی خدشات کا مشترکہ حل تلاش کرنا ہے۔ نیویارک میں ہونے والی اس بیٹھک کو بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر دنیا بھر کے بڑے دارالحکومتوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں باخبر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران تینوں برادر و دوست ممالک یعنی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے تاریخی ‘مکہ معاہدے’ کے مختلف تزویراتی اور عملیاتی پہلوؤں پر ایران کو مکمل اعتماد میں لیا جائے گا۔ اس اہم نشست کا مقصد مسلم دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے خطے میں مصالحانہ کوششوں کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں اس بیٹھک کو انتہائی کلیدی قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے کے تمام ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے میں مدد دے گی۔
اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ چار ملکی اجلاس خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ اس موقع پر اپنا مصالحانہ کردار ادا کرتے ہوئے تہران اور ریاض کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور اقتصادی تعاون کے نئے راہیں تلاش کرنے پر زور دیں گے۔ اس ملاقات میں تجارت، علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے، جس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا بھی قوی امکان ہے۔