پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نفرت انگیز تقریر پر قانونی شکنجے میں

ات کے مطابق، وفاقی دارالحکومت میں درج کی جانے والی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما نے عوامی اجتماعات اور ڈیجیٹل میڈیا کے مختلف چینلز پر ایسی تقاریر کیں جن کا مقصد عوام میں اشتعال پیدا کرنا، اداروں کے خلاف اکسانا اور معاشرتی ہم آہنگی کو خراب کرنا تھا۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں نے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جن میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیو کلپس اور تقاریر کے ٹرانسکرپٹس بھی شامل ہیں، جنہیں قانونی کارروائی کا حصہ بنایا جائے گا۔
ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کی جانب سے اس معاملے پر سخت رویہ اپنایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل رائٹس اور سائبر کرائمز کے قوانین کے تحت نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جارہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ سیاسی منظر نامے میں اس نوعیت کے مقدمات کا اندراج تحریک انصاف کی قیادت کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، جبکہ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کیس کی سماعت کے دوران دفاعی ٹیم کو عدالت میں کڑے قانونی مراحل کا سامنا کرنا پڑے گا۔