امریکا کا خلیجی خطے میں توانائی تنصیبات کیلئے 5 ارب ڈالر کا فنڈ

اسلام آباد: امریکا نے خلیجی خطے میں توانائی کی اہم تنصیبات کی تعمیرِ نو اور سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پانچ ارب ڈالر کے خطیر فنڈز فراہم کرنے کی ایک اہم تجویز پیش کی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خط استوار کرنا ، ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانا اور بین الاقوامی سپلائی لائنز کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس امریکی تجویز کو خطے میں اقتصادی تعاون اور سلامتی کے حوالے سے ایک انتہائی سنجیدہ اور دور رس قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اسی لیے ان تنصیبات کا تحفظ تمام عالمی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مجوزہ فنڈز کے ذریعے نہ صرف تباہ شدہ یا فرسودہ تنصیبات کی مرمت کی جائے گی بلکہ جدید ڈیجیٹل سکیورٹی سسٹمز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ ٹیکنالوجی بھی نصب کی جائے گی تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناگوار واقعے یا تخریب کاری کے خطرے کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔

دوسری جانب، خلیجی ممالک کے رہنماؤں نے اس امریکی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے امن اور توانائی کے استحکام کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فنڈنگ سے نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ پاکستان سمیت دیگر توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی یہ پیش رفت مثبت ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے عالمی منڈی میں توانائی کی رسد بلا تعطل جاری رہنے کی یقین دہانی ہوتی ہے۔