ات کے مطابق واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس اور حساس اداروں نے جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش کا آغاز کیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ کوئی معمولی رہزنی یا رنجش کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے گھریلو تنازعات اور سازش کارفرما ہے۔ پولیس کی تفتیشی ٹیم نے علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز، کال ڈیٹا ریکارڈ اور دیگر شواہد کی مدد سے کڑی سے کڑی ملائی، جس کے نتیجے میں مکروہ فعل کے اصل ماسٹر مائنڈ تک رسائی حاصل ہوئی۔ تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ متاثرہ خاتون کے اپنے شوہر نے ہی ذاتی رنجش اور مبینہ گھریلو جھگڑوں کی بنیاد پر اپنی ہی بیوی پر تیزاب پھینکنے کی سازش رچی تھی اور اس کے لیے باقاعدہ اجرتی ملزمان یا کرائے کے غنڈوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔
پولیس حکام نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شوہر نے تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے جبکہ اس کے مرکزی حواری کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جا چکا ہے۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث دیگر سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کیا جا سکے۔ دوسری جانب، تیزاب گردی کا شکار ہونے والی بدقسمت خاتون ارج کو تشویشناک حالت میں مقامی اسپتال کے برن وارڈ میں منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز ان کی جان بچانے اور بہترین طبی امداد فراہم کرن کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور عام شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تیزاب گردی جیسے بھیانک جرائم میں ملوث عناصر کو سرعام اور عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ معاشرے میں اس قسم کے درندوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔