کراچی:سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد سے تین سالہ بچی عائشہ عثمان کے مبینہ اغوا کو 36 گھنٹے سے زائد کا طویل وقت گزر چکا ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس تاحال بچی کا کوئی سراغ لگانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ واقعے کے بعد سے نہ صرف متاثرہ خاندان شدید صدمے اورکرب میں مبتلا ہے بلکہ شہر بهر میں حفاظتی انتظامات اور طبی مراکز کی سکیورٹی پر بھی سنگین نوعیت کے سوالیہ نشانات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ورثا کا صبر جواب دے رہا ہے جبکہ پولیس حکام کی جانب سے روایتی تاخیری حربے کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جس سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
متاثرہ بچی کی نانی کی جانب سے درج کرائے گئے ابتدائی بیان کے مطابق وہ اپنی بیٹی اور تین سالہ نواسی عائشہ کے ہمراہ معمول کے چیک اپ اور دوائی لینے کے لیے سندھ گورنمنٹ اسپتال آئی تھیں۔ اسپتال کے گنجان آباد اور مصروف ترین شعبے میں اچانک بچی کی گمشدگی یا مبینہ اغوا نے سکیورٹی کے دعووں کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔ نانی کا رو رو کر برا حال ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سرکاری ہسپتال کے اندر سے اتنی چھوٹی بچی کو باآسانی اغوا کر کے فرار ہو جانا پولیس اور اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سول ہے۔ خاندان نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور بچی کی بازیابی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان کی تلاش کا عمل تیزی سے جاری ہے اور مختلف پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق اسپتال کے داخلی اور خارجی راستوں پر لگے کیمروں کے علاوہ قریبی علاقوں کی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ اغوا کاروں کا سراغ لگایا جا سکے اور معصوم بچی کو بحفاظت بازیاب کرایا جا سکے۔ تاہم، شہری حلقوں اور سول سوسائٹی نے پولیس کی سست روی اور ناقص تفتیشی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث عناصر کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور غفلت برتنے والے اسپتال کے عملے کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔