دھرنوں سے معیشت کو یومیہ 120 ارب کا نقصان

اسلام آباد وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز اور مشکلات کے اس نازک دور میں ملک کے اندر دھرنے اور احتجاجی سیاست ریاست اور معیشت کے ساتھ براہِ راست کھلواڑ کے مترادف ہے۔ ایک اہم ٹی وی پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے قومی معیشت کو روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 120 ارب روپے کا ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کے تحقیقی مطالعوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات ملک کی ترقیاتی رفتار کو شدید متاثر کرتے ہیں اور بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔

راولپنڈی دوسری جانب، پاکستان تحریکِ انصاف پی ٹی آئ نے بانی چیئرمین عمران خان کی فوری رہائی اور ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے نفاذ کے لیے عوامی مہم تیز کرتے ہوئے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب بھرپور احتجاجی مارچ کرنے کا حتمی اعلان کر رکھا ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعت کا مؤقف ہے کہ یہ پرامن احتجاج ان کا جمہوری اور آئینی حق ہے، جس کے ذریعے وہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی جذبات کی ترجمانی کریں گے۔ پی ٹی آئی کی اس کال کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے اور ارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات زیرِ غور لائے جا رہے ہیں۔

لاہورادھر، سیاسی میدان میں حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر جماعتیں بھی سرگرم عمل ہو چکی ہیں، جن میں جماعتِ اسلامی بھی شامل ہے جو پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی اور ٹیکسز کے خاتمے کے لیے حکومتی ایوانوں کو جھنجھوڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان سیاسی سرگرمیوں اور دھرنے کی تیاریوں کے تناظر میں کاروباری برادری اور تجارتی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا متفقہ طور پر یہی کہنا ہے کہ اس وقت ملک مزید کسی بھی قسم کے سیاسی انتشار، دھرنوں اور محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ معیشت پہلے ہی بحالی کے طویل اور کٹھن مرحلے سے گزر رہی ہے۔