اسلام آباد عالمی دفاعی منڈی اور عسکری حلقوں میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب آسٹریلیا سے امریکہ روانہ کیے جانے والے جدید ترین ایف-35 لڑاکا طیاروں کے انتہائی حساس اور خفیہ پرزوں پر مشتمل کھیپ مبینہ طور پر ہانگ کانگ کے راستے چین پہنچ گئی۔ بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ عسکری سازوسامان کی نقل و حرکت اور سپلائی چین کی سیکیورٹی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے، جس نے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پرزے جدید ترین ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر پر مشتمل ہیں جن کی چین تک رسائی دفاعی نقطہ نظر سے انتہائی تشویشناک ہے۔
واشنگٹن واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے امریکی اور آسٹریلوی انٹیلی جنس اداروں نے مشترکہ طور پر ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ کھیپ معمول کی تجارتی پرواز کے ذریعے امریکہ کے لیے روانہ کی گئی تھی، تاہم راستے میں اس کی منزل غیر متوقع طور پر تبدیل ہو گئی یا پھر ترسیلی نظام میں جان بوجھ کر کی گئی جعلسازی کے باعث یہ حساس سامان چین کے نیم خود مختار خطے ہانگ کانگ میں اتارا گیا۔ تحقیقاتی ٹیمیں اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر ہی ہیں کہ آیا اس سیکیورٹی بریچ کے پیچھے کسی بین الاقوامی جاسوسی نیٹ ورک کا ہاتھ ہے یا یہ محض لاجسٹک عمل کی غفلت کا نتیجہ ہے۔
کینبرا آسٹریلوی وزارت دفاع نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ عسکری سازوسامان کی ترسیل کے دوران معیاری ایس او پیز SOPs کی خلاف ورزی کیوں اور کیسے ہوئی۔ دوسری جانب، دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایف-35 جیسے ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے کے حساس پرزے چین کے ہاتھ لگ جاتے ہیں، تو اس سے بیجنگ کو اس جدید ترین ٹیکنالوجی کی ری انجینئرنگ یا اس کے دفاعی سسٹمز کا توڑ کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ عالمی سطح پر اس واقعے کے اثرات دفاعی معاہدوں اور سپلائی چین کی کڑی نگرانی پر گہرے مرتب ہوں گے۔