بونیر:خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کے مرکزی کاروباری علاقے سواڑی بازار میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے دوران منگنی کی تقریب میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 70 افراد کی حالت اچانک غیر ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق سواڑی بازار کے رہائشی ولی اللہ کی جانب سے اپنی صاحبزادی کی منگنی کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں عزیز و اقارب اور محلے کے معززین سمیت بڑی تعداد میں مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی تواضع کے لیے مختلف روایتی کھانے پیش کیے گئے، جنہیں کھاتے ہی چند گھنٹوں کے اندر مہمانوں میں پیٹ درد، شدید قے، سر چکرانے اور دست کی شکایات شروع ہو گئیں، جس سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی ریسکیو ٹیمیں، ایدھی اور فلاحی اداروں کی ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور متاثرہ افراد کو ہنگامی بنیادوں پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال بونیر اور قریبی رورل ہیلتھ سینٹرز میں منتقل کیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد میں سے بیشتر کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام طبی عملے کو ہائی الرٹ کر کے متاثرین کو فوری طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ ابتدائی طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال غالباً خوراک کے خراب ہونے یا گرمی کے باعث کھانے میں زہر پھیلنے (فوڈ پوائزننگ) کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، تاہم حتمی وجوہات میڈیکل رپورٹس آنے کے بعد ہی سامنے آسکیں گی۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ فوڈ سیفٹی افسران کی ایک خصوصی ٹیم نے تقریب میں استعمال ہونے والے بچ جانے والے کھانوں اور مختلف اجزاء کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے بھجوا دیے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ غفلت کی وجہ سے ہوا یا کسی اور تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہے۔ پولیس نے تقریب کے منتظمین اور کیٹرنگ سروس کے ذمہ داروں سے ابتدائی پوچھ گچھ شروع کر دی ہے اور ضلعی انتظامیہ نے تمام میرج ہالز اور کیٹرنگرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ معیار اور صفائی کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کریں تاکہ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات سے مستقبل میں بچا جا سکے۔