اسلام آباد: سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی اور زراعت عبدالرحمٰن الفاضلی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے سعودی وفد کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے آئندہ دو برسوں کے اندر پاکستان سے سعودی عرب کو تین ارب ڈالر مالیت کی زرعی اور غذائی مصنوعات برآمد کرنے کے ایک انتہائی پرجوش اور طویل المدتی ہدف پر اتفاق کیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا اور غذائی تحفظ کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زراعت کے شعبے میں دو اہم ترین اشیا چاول اور سرخ گوشت کی تجارت ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال کے دوران پاکستان نے تقریباً 33 کروڑ ڈالر مالیت کے چاول اور سرخ گوشت سعودی عرب برآمد کیے۔ اس مجموعی تجارت میں ایک لاکھ انہتر ہزار ٹن چاول شامل تھے جن کی مالیت سولہ کروڑ تیس لاکھ ڈالر رہی، جبکہ تیس ہزار ٹن سرخ گوشت کی برآمدات سے سولہ کروڑ ستر لاکھ ڈالر کا زر مبادلہ حاصل ہوا۔ موجودہ برآمدی حجم اور تین ارب ڈالر کے نئے ہدف کے درمیان پائے جانے والے اس وسیع فرق کو محض چوبیس ماہ کے قلیل مدت میں پورا کرنا بلاشبہ ایک کٹھن اور بڑا زرعی امتحان ہے۔
اس کٹھن ہدف کے حصول کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں نے حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق روایتی برآمدات کے علاوہ اب پراسیس شدہ غذائی اشیا، پھلوں کے کنسنٹریٹس اور سبز چارے کو بھی ترجیحی شعبوں میں شامل کر لیا گیا ہے، جس سے اس ہدف کے حصول کے امکانات میں نمایاں بہتری آئی گی اگر پاکستان اپنے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، معیاری پیکیجنگ اور بین الاقوامی سرٹیفیکیشن کے تقاضوں کو پورا کرے، تو نہ صرف مقررہ مدت میں اس ہدف کو حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ ملک کی زرعی برآمدات کے لیے مستقل بنیادوں پر نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں