یمن میں جنگ بندی: ترکیہ کی جانب سے فریقین کو اہم تجاویز پیش

انقرہ:ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے انکشاف کیا ہے کہ انقرہ اور دیگر ہم خیال ممالک نے مشرق وسطیٰ بالخصوص یمن میں جاری تباہ کن جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے عالمی طاقتوں اور علاقائی فریقین کو نئی اور جامع تجاویز ارسال کر دی ہیں۔ ترک ٹیلی ویژن چینل ‘این ٹی وی’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اور اس ضمن میں امریکہ اور ایران سمیت تمام متعلقہ فریقین کو جنگ بندی کے لیے نئے ضوابط اور تجاویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ خطے کو مزید خونریزی سے بچایا جا سکے۔

خاقان فیدان نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کا بحران نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن اور توانائی کی سپلائی لائنز کے لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے، اس لیے تمام فریقین کو سیاسی مفاہمت کا راستہ اپنانا چاہیے۔ ترک وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کیا ہے جو فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی سفارتی حلقوں نے ترکیہ کی اس امن پہل کا خیرمقدم کیا ہے تاہم زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا امریکہ اور ایران اس نئی سفارتی پیش رفت پر کس حد تک لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، خاقان فیدان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن سمیت پورے خطے میں تناؤ عروج پر ہے اور عالمی برادری کسی بھی بڑی جنگی صورتحال کو ٹالنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس سفارتی مشن کے مثبت یا منفی نتائج خطے کی سیاست کا رخ طے کرنے میں اہم ترین کردار ادا کریں گے۔