لاہور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی کو سخت سیاسی کشیدگی سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی قیادت کو ایسی کسی بند گلی میں قدم نہیں رکھنا چاہیے جہاں سے واپسی کے تمام راستے مسدود ہو جائیں۔ انہوں نے لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کو کسی بھی قسم کی سیاسی محاذ آرائی یا انارکی کا متحمل ہونے کی گنجائش حاصل نہیں ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ اگر 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت ماضی کے تجربات کی روشنی میں کسی بھی قسم کا کوئی خلا یا قانونی لوپ باقی نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست کی رٹ اور عدالتی احکامات کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا تاکہ دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج اور دھرنے کی اس سیاست سے نہ تو کسی سیاسی جماعت کو کوئی حقیقی فائدہ پہنچے گا اور نہ ہی اس کا ملکی معیشت پر کوئی مثبت اثر پڑے گا۔ انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے غیر ضروری دباؤ سے ملکی معاشی ترقی کے عمل کو شدید دھچکا لگتا ہے، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور عام عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا پی ٹی آئی کو احتجاج کی بجائے پارلیمانی اور آئینی راستے اختیار کرنے چاہئیں۔