افغان حکومت کا پاکستانی فضائی بمباری میں

اسلام آباد افغان طالبان حکومت نے پیر کے روز ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی عسکری طیاروں نے افغانستان کے سرحدی صوبوں کنڑ اور پکتیکا میں مبینہ طور پر شہری آبادی کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ افغان حکام کے مطابق اس مبینہ کارروائی کے نتیجے میں تین عام شہری جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوے ہیں۔ اس نوعیت کے الزامات دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ سرحدی و سفارتی تعلقات میں مزید تلخی کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم پاکستان کی جانب سے اس بابت تاحال کوئی باضابطہ تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

کابل

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کی جانب سے صوبہ کنڑ کے ایک رہائشی مکان کو ہدف بنایا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس فضائی کارروائی میں ایک خاتون اور دو مرد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ دو خواتین اور دو دیگر مرد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ افغان حکومت کا اصرار ہے کہ حملے کی زد میں آنے والے تمام افراد کا تعلق عام شہریوں سے تھا اور اس کارروائی میں کسی بھی عسکری یا عسکریت پسند تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

راولپنڈی

دوسری جانب، پاکستانی سول و عسکری حکام کی طرف سے افغان عبوری حکومت کے ان تازہ دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل یا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کے معاملات اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے دونوں ممالک کے مابین عرصہ دراز سے کشمکش جاری ہے۔ پاکستان پہلے بھی افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں ہونے والے ان مبینہ واقعات کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔