مغربی ایشیا میں امریکی تسلط کا خاتمہ

تہران ایرانی پارلیمان مجلس کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک انتہائی اہم اور دوٹوک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ایشیا (مشرقِ وسطیٰ) میں طویل عرصے سے قائم امریکی تسلط اور اس کا خود ساختہ ورلڈ آرڈر اب مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے کی موجودہ جغرافیائی اور یاسی صورتحال کے پیشِ نظر اب علاقائی ممالک کو مل کر ایک نیا اور خود مختار سیکیورٹی آرڈر تشکیل دینا ہوگا جو بیرونی مداخلت سے پاک ہو۔ ایرانی اسپیکر کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری گزرگاہوں کی سیکیورٹی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے خصوصی پیغام میں آبنائے کے حوالے سے ایران کے سخت اور اصولی موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ جب تک ایران کی پیش کردہ تمام جائز شرائط کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک آبنائے ہرمز کو تجارتی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور اس کا کنٹرول ایران کا خود مختار حق ہے اور تہران اپنی قومی سلامتی اور مفادات پر کسی بھی قسم کا سمجھوت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو تقسیم کرنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خطے کے وسائل کا استحصال کیا ہے۔ تاہم، اب وقت بدل چکا ہے اور مزاحمتی بلاک کی مضبوطی نے امریکی عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے تمام ممالک کو اب یہ ادراک کر لینا چاہیے کہ بیرونی طاقتیں کبھی بھی ان کی خیر خواہ نہیں ہو سکتیں، لہٰذا پائیدار امن اور معاشی استحکام کے لیے ایک نئے علاقائی اتحاد اور سیکیورٹی فریم ورک کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ باقر قالیباف کے اس بیان سے خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں بحری جہاز رانی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزنہ لاکھوں بیرل خام تیل دنیا بھر کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ ایران کی جانب سے اس گزرگاہ کو بند رکھنے یا شرائط عائد کرنے کے فیصلے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔