پی آئی اے میں جعلی ڈگری والے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی

کراچی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پی آئی اے کی نئی انتظامیہ نے ادارے کو کرپشن اور نااہلی سے پاک کرنے کے لیے ایک فیصلہ کن اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جعلی ڈگریوں اور بوگس اسناد کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے تمام ملازمین اور افسران کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس خصوصی مقصد کے تحت ادارے کے اندر ایک جامع اور شفاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ قومی ادارے کے وقار کو بحال کیا جا سکے اور میرٹ کی پامالی کا مستقل قلع قمع کیا جا سکےتفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی اعلیٰ انتظامیہ نے تمام شعبہ جات کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے ماتحت عملے کی تعلیمی اسناد اور ڈگریوں کی فی الفور اور نچلی سطح تک تصدیق کو یقینی بنائیں۔ اس ضمن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن ایچ ای سی اور دیگر متعلقہ تعلیمی بورڈز کی معاونت سے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی تشکیل دی گئی ہے جو ملازمین کی تعلیمیسناد کی جانچ پڑتال کے عمل کو تیز تر کرے گی۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ماضی میں سیاسی اثر و رسوخ اور سفارشی کلچر کا استعمال کرتے ہوئے کئی افراد نے جعلی اسناد کی بنیاد پر اہم اور کلیدی عہدے حاصل کیے تھے اور اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جعلی اسناد کے حامل کسی بھی ملازمین کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، اور ان کے خلاف فوری طور پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس ضمن میں نہ صرف ان ملازمین کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا بلکہ ان کے خلاف باقاعدہ فوجداری مقدمات درج کر کے اب تک وصول کی گئی تنخواہوں اور مراعات کی ریکوری کے لیے بھی قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔ قومی ایئرلائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ادارے کو مالی اور انتظامی بحران سے نکالنا اور پبلک سیکٹر میں شفافیت کے اعلیٰ ترین اصولوں کو فروغ دینا ہےمبصرین اور ماہرینِ معیشت نے پی آئی اے کی نئی انتظامیہ کے اس جرأت مندانہ اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اداروں کی بہتری کے لیے اس قسم کے سخت فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ عوام اور سول سوسائٹی کے حلقوں کی طرف سے بھی اس مہم کا بھرپور خیرمقدم کیا جا رہا ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس صفائی مہم کے نتیجے میں پی آئی اے دوبارہ سے منافع بخش اور ایک قابلِ فخر قومی ادارہ بن کر ابھرے گا، جہاں صرف اور صرف اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر ہی تقرریاں عمل میں لائی جائیں گی۔