ایران اور یوکرین کا کشیدگی کم کرنے اور رابطے بحال رکھنے پر اتفاق

نیویارک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایران اوریوکرین کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں ممالک نے باہمی کشیدگی کو کم کرنے اور تمام موجودہ سفارتی رابطے کے ذرائع کو مکمل طور پر کھلا رکھنے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے اور بین الاقوامی سطح پر جیو پولیٹیکل صورتحال انتہائی کشیدہ چلی آ رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں بعض امور پر شدید اختلافات پائے جاتے تھے۔ سفارتی ماہرین کی جانب سے اس اعلیٰ سطحی رابطے کو ایک مثبت اور تعمیری قدم قرار دیا ہے جس سے دوطرفہ غلط فہمیوں کے ازالے میں مدد ملے گےملاقات کے بعد یوکرین وزیر خارجہ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس سابقہ ٹوئٹر پر ملاقات کی ایک تصویر بھی شیئر کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ مشکل ترین حالات میں بھی سفارت کاری کا راستہ ہی مسائل کا واحد حل ہوتا ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے تمام ممکنہ سفارتی کوششوں کو جاری رکھے گا۔ اس غیر متوقع مگر خوش آئند ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس بات چیت کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس ملاقات کو دونوں ممالک کے مفاد میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران ہمیشہ سے تنازعات کے پرامن حل اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا حامی رہا ہے۔ عالمی سطح پر مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی نوعیت کے اختلافات اب بھی برقرار ہیں، تاہم اس نوعیت کے براہ راست رابطے مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کو ٹالنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے حلقوں میں بھی اس ملاقات کو انتہائی سراہا گیا ہے اور اسے عالمی امن کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔