روسی صدر کو روکا جائے ورنہ جنگ عالمی سطح پر پھیل جائے گی: زیلنسکی

نیویارک:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ماسکو پر دباؤ میں مزید اضافہ کرے تاکہ جاری تنازع کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں انتہائی سخت الفاظ میں انتباہ جاری کیا کہ یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کے منفی اثرات اب خطے کی سرحدوں سے نکل کر پوری دنیا کو اپنی لپیت میں لے رہے ہیں، جس سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ یوکرینی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں جمود کا شکار ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی بھی موثر لائحہ عمل تاحال طے نہیں پایا جا سکا ہے۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کریملن کی جنگی مشینری کو لگام دینے کے لیے محض بیانات کافی نہیں ہیں بلکہ عملی اور سخت ترین اقتصادی پابندیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ روس دانستہ طور پر توانائی اور خوراک کی رسد کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک بالخصوص شدید معاشی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ اگر آج جارحیت پسند حکمرانوں کو نہ روکا گیا تو دنیا کے دیگر حصوں میں بھی تنازعات جنم لیں گے اور بین الاقوامی قوانین کی حیثیت محض ایک کاغذی کارروائی بن کر رہ جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق زیلنسکی کا یہ خطاب اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے مغربی اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ کیف کو جدید ترین عسکری سازوسامان اور مالی امداد کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے۔ دوسری جانب روس نے یوکرینی صدر کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو کی مشرقی توسیع اور مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی ہی اس خطے میں عدم استحکام کی اصل جڑ ہے۔ دریں اثنا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازع کا واحد حل سفارتی بات چیت ہے