اسلام آباد ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں اپیلٹ ٹربیونل نے کراچی کے شہریوں کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی اپیل کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا کی جانب سے مقرر کردہ 32 روپے 37 پیسے فی یونٹ کا بجلی کا نظرثانی شدہ ٹیرف مکمل طور پر برقرار رہے گا، جس سے ادارے اور صارفین کے درمیان مالیاتی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ ٹربیونل کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانونی تقاضوں اور ضابطہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بلاجواز مالی بوجھ سے بچایا جا سکے اور توانائی کے شعبے میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔
کراچی
دوسری جانب، اس عدالتی فیصلے اور ٹیرف کی بحالی کے بعد اقتصادی حب کراچی میں شدید نوعیت کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافے کے واضح خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ تجارتی اور صنعتی حلقوں نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مالیاتی خسارے اور ٹیرف کے معاملات کو فوری طور پر خوش اسلوبی سے حل نہ کیا گیا تو اس کا براہ راست اثر صنعتی پیداوار، چھوٹے کاوباروں اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر پڑے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کے الیکٹرک اور وفاقی اداروں کے درمیان اس کشمکش کے نتیجے میں کراچی کے عوام ایک بار پھر طویل اور تکلیف دہ بجلی کے تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے شہر کا معاشی پہیہ بھی سست پڑنے کا اندیشہ ہے
اسلام آباد
دریں اثنا، وزارتِ توانائی اور نیپرا کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کراچی کے صارفین کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی جاری رہے۔ حکام کے مطابق، ٹیرف کے معاملات کا مقصد جہاں ایک طرف بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانا ہے, وہیں دوسری طرف قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو بھی کم کرنا ہے۔ تاہم، توانائی کے امور کے ماہرین کا یہ اصرار ہے کہ حکومت اور کے الیکٹرک کو مل بیٹھ کر ایک ایسا پائیدار لائحہ عمل تیز کرنا چاہیے جو نہ صرف ادارے کی مالی حالت کو مستحکم کرے بلکہ مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی کو بھی ریلیف فراہم کرنے کا ضامن بنے