کراچی اردو زبان و ادب کے کہنہ مشق غزل گو شاعر، نامور نثر نگار اور ممتاز براڈ کاسٹر سید تابش دہلوی کی برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔ اس موقع پر ادبی حلقوں میں ان کی گراں قدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے، جہاں شائقینِ ادب ان کے فکری و فنی کمالات پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ تابش دہلوی نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی آبیاری، ترویج اور ریڈیو براڈکاسٹنگ کے شعبے کو معتبر بنانے کے لیے وقف کر دی تھی۔
دہلی کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے تابش دہلوی نے کم عمر ہی سے شعر و سخن کا آغاز کر دیا تھا۔ ان کا اصل نام سید تابش دہلوی تھا جو اپنے منفرد لب و لہجہ، کلاسیکی آہنگ اور شگفتہ بیانی کی وجہ سے ادبی دنیا میں الگ شناخت رکھتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ یہاں انہوں نے پاکستان کی سرکاری ریڈیو سروس سے وابستہ ہو کر اردو ادب اور صدا کاری کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان کے ریڈیو پروگرامز اور خبریں پڑھنے کا انداز آج بھی ایک سنہری معیار مانا جاتا ہے۔
تابش دہلوی کی شاعری میں غنائیت، روایتی شائستگی اور داخلی کیفیات کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ‘نیمروز’، ‘چراغِ سحر’، ‘غزلیں’ اور دیگر کتب شامل ہیں جنہیں ناقدین کی طرف سے بے حد پذیرائی ملی۔ ان کی شاعری نے اردو غزل کو نیا وقار بخشا۔ وہ 93 برس کی عمر میں 23 ستمبر 2004ء کو طویل علالت کے بعد اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے تھے، مگر ان کا ادبی ورثہ اور خوبصورت آواز آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔