خلا میں امریکی ہتھیاروں کی تن

امریکہ کی جانب سے خلا میں مبینہ طور پر ہتھیاروں کی تنصیب کے حالیہ انکشاف نے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین اور عالمی رہنماؤں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ زمین پر اپنی عسکری اور سیاسی برتری کو یقینی بنانے کے بعد اب واشنگٹن کی نگاہیں کائناتی تسلط پر مرکوز ہو چکی ہیں، جس کے عالمی امن اور سلامتی کے تناظر میں انتہائی خطرناک اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس پیش رفت نے خلاء کے پرامن استعمال سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں اور اصولوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور میں ہی خلا میں امریکی بالادستی قائم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ایک الگ ‘خلائی فوج’ اسپیس فورس بنانے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ہزاروں افراد کو عسکری تربیت فراہم کی جانی تھی۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے گزشتہ ماہ ایک اہم صدارتی ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے گئے ہیں، جس کا مقصد خلاء میں امریکی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا اور یو ایس سپیس اکیڈمی کا قیام عمل میں لانا ہے۔

بیجنگ دوسری جانب، واشنگٹن کی جانب سے اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ خلا میں کس نوعیت کے ہتھیار اور دفاعی آلات بھیجے گئے ہیں۔ اس ابہام کی وجہ سے عالمی طاقتیں بالخصوص چین اور روس اس پیش رفت کو انتہائی شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں ایک نئی اور خطرناک خلائی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے، جو مستقبل میں کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔