اسلام آباد پاکستان کے میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق، حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے اہم حصوں پر کیے جانے والے بیلسٹک میزائل حملوں کو مشترکہ دفاعی اتحاد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جارحانہ کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے عزمِ مصمم کی ضرورت ہے۔ دفاعی اتحاد کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ شہریوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے شہروں طائف اور ینبع ڈویژن کو نشانہ بنانے والے ان بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ عرب اتحاد کے فضائی دفاعی نظام نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزائلوں کو اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا، جس کے نتیجے میں کسی بھی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ مقامی انتظامیہ نے صورتحال پر مکمل قابو پا لیا ہے اور عوام کو یقین دلایا گیا ہے کہ حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں اور سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں جاری بحران کا پائیدار سیاسی حل تلاش کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی سالمیت، خودمختاری اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ خطے میں امن کی بحالی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے مشترکہ اور مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرے تاکہ معصوم شہریوں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے اور اقتصادی ترقی کا سفر بلا تعطل جاری رہ سکے