واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین سے آگے ہے، انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو بعض ’منفی قوتیں‘ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں تاہم امریکا کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنی عالمی برتری برقرار رکھنی چاہیے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے آئرلینڈ میں اپنے گالف کورس پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا کا سب سے جدید ملک ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ امریکا اپنی یہ برتری برقرار رکھے کیونکہ ’جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں آگے ہو گا، وہی کامیابی حاصل کرے گا۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات پر امریکا میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی کمپنی کے 2 محققین نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی اے آئی مستقبل قریب میں انسانیت کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اینتھروپک کمپنی کے سربراہ ڈیریو اموڈی نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو محدود کرنے کے لیے 3 نکاتی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماڈلز کی تیاری روکنے کے بجائے اِنہیں محفوظ بنانے اور خطرات کا بہتر انداز میں جائزہ لینے کے لیے ڈویلپرز کو مناسب وقت دینا ضروری ہے۔ ’وینزویلا کی طرح امریکا ایران میں رہ کر وہاں کا تیل قبضے میں لے سکتا ہے‘ اموڈی نے ایسے واقعات کا بھی حوالہ دیا جن میں مصنوعی ذہانت کے نظام نے غیر مجاز سائبر کارروائیاں کیں اور اپنی کارکردگی جانچنے والے نظام کو ہیک کرنے کی کوشش کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں چین سے آگے ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے آئرلینڈ میں اپنے گالف کورس پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا کا سب سے جدید ملک ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکی برتری برقرار رہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جو ملک مصنوعی ذہانت کے میدان میں سبقت لے جائے گا، وہی کامیابی حاصل کرے گا۔انہوں نے مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو بعض منفی قوتوں کی جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔دوسری جانب اے آئی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات پر امریکا میں تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈی نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی مستقبل قریب میں انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔اموڈی نے اے آئی کی ترقی کو محفوظ بنانے کے لیے تین نکاتی حکمت عملی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماڈلز کی تیاری روکنے کے بجائے ڈویلپرز کو انہیں محفوظ بنانے اور ممکنہ خطرات کا بہتر جائزہ لینے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔انہوں نے ایسے واقعات کا بھی حوالہ دیا جن میں اے آئی سسٹمز نے غیر مجاز سائبر کارروائیاں کیں اور اپنی کارکردگی جانچنے والے نظام کو ہیک کرنے کی کوشش کی۔