پاکستان کے نامور اسٹار ریسلر اور سابق ورلڈ چیمپئن و گولڈ میڈلسٹ انعام بٹ کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آ گیا۔ پاکستان کے نامور اسٹار ریسلر اور سابق ورلڈ چیمپئن و گولڈ میڈلسٹ انعام بٹ کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے، جس کے بعد انہوں نے معاملے کے دفاع کے لیے لیگل ایڈوائزر کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق رواں برس چین میں منعقد ہونے والے ایشین بیچ گیمز کے دوران انعام بٹ کا ڈوپ ٹیسٹ کے لیے سیمپل لیا گیا تھا۔ اس حوالے سے انعام بٹ کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی آنکھوں کے علاج کے لیے دوا استعمال کر رہے تھے، اور انہوں نے اپنے علاج اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ان ادویات کا تمام ریکارڈ پہلے ہی عالمی ادارہ انسدادِ ڈوپنگ کو جمع کرا رکھا ہے۔ ریسلر کے مطابق استعمال کی جانے والی دوا کا تعلق جسمانی قوت یا کارکردگی بڑھانے والی ممنوعہ ادویات سے نہیں ہے۔ انعام بٹ واڈا حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور ایک ہفتے کے دوران کیس سے متعلق تمام دستاویزات اور وضاحتیں جمع کرا دی جائیں گی۔ اگر ریسلر اینٹی ڈوپنگ حکام کو اپنے مؤقف اور طبی ریکارڈ سے مطمئن نہ کر سکے تو ان پر پابندی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اسی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستانی ریسلر نے باقاعدہ طور پر قانونی مشیران کی خدمات حاصل کی ہیں۔

پاکستان کے نامور ریسلر، سابق عالمی چیمپئن اور گولڈ میڈلسٹ انعام بٹ کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آ گیا، جس کے بعد انہوں نے معاملے کے دفاع کے لیے قانونی مشیر کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔ذرائع کے مطابق رواں برس چین میں ہونے والے ایشین بیچ گیمز کے دوران انعام بٹ کا ڈوپ ٹیسٹ کے لیے سیمپل لیا گیا تھا۔ انعام بٹ کا مؤقف ہے کہ وہ آنکھوں کے علاج کے لیے ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا استعمال کر رہے تھے، جس کا مکمل طبی ریکارڈ وہ پہلے ہی عالمی ادارہ انسدادِ ڈوپنگ (واڈا) کو فراہم کرچکے ہیں۔انعام بٹ کے مطابق استعمال کی جانے والی دوا کا تعلق جسمانی طاقت یا کھیلوں کی کارکردگی بڑھانے والی ممنوعہ ادویات سے نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ واڈا حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور ایک ہفتے کے دوران کیس سے متعلق تمام ضروری دستاویزات اور وضاحتیں جمع کرا دی جائیں گی۔اگر انعام بٹ اپنے مؤقف اور طبی ریکارڈ کے ذریعے اینٹی ڈوپنگ حکام کو مطمئن نہ کرسکے تو ان پر پابندی عائد ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ اسی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر پاکستانی ریسلر نے قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کرلی ہیں تاکہ وہ اپنے کیس کا مؤثر دفاع کرسکی