ماسکو: روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران فضائی حملوں میں مختصر وقفے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے تحت روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کیف کے خلاف تین دن کے لیے حملے روکنے کا سخت حکم جاری کر دیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 6 ستمبر کی آدھی رات سے کیف پر حملوں میں 72 گھنٹے کے وقفے کا حکم دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد صورتحال کا جائزہ لینا اور سفارتی سطح پر راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ عارضی جنگ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس کا اہم دورہ کر رہے ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ہفتے کی صبح سرکاری میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پیوٹن نے حکم دیا ہے کہ آج آدھی رات سے تین دن تک کیف پر کوئی حملہ نہ کیا جائے۔
واشنگٹن: روسی صدارتی آفس (کریملن) کا کہنا ہے کہ یہ اہم اتفاق رائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاص نمائندن اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ دونوں امریکی ایلچیوں نے روسی صدر کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے تک چلنے والی طویل اور تفصیلی ملاقات کی، جس میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے، خطے میں امن و امان کی صورتحال اور ممکنہ جنگ بندی سمیت مختلف اہم معا��لات پر کھلے طریقے سے خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ کریملن کے ترجمان کے مطابق یہ ملاقات انتہائی بامعنی اور تعمیراتی ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں فریقوں نے جنگ کے جلد خاتمہ کے لیے کئی نئی تجاویز پر غور کیا اور ممکنہ امن حل کے لیے اہم خاکہ تیار کیا ہے۔
کیف: روسی صدارتی آفس کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی ایلچیوں نے صدر پیوٹن کے مؤقف کو یوکرین کے اعلیٰ حکومتی حکام کے ساتھ ہونے والی آئندہ فریقین کی بات چیت میں پیش کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔ بین الاقوامی اور امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج یوکرین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ روسی مؤقف اور نئی جنگ بندی سے متعلق لائی گئی تجاویز کو براہ راست یوکرینی حکومت اور متعلقہ حکام کے سامنے رکھیں گے۔ ان سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے خطے میں امن کی بحالی اور خون خرابے کو روکنے میں بڑی مدد ملے گی۔