سکھر: اسلام آباد کے پمز اسپتال کے واقعے کے بعد ملک بھر میں حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں سول ڈیفنس روہڑی کے حکام کی جانب سے شہر کے مختلف سرکاری و نجی اداروں میں فائر سیفٹی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لینے کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت اور مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ ڈائریکٹر سول ڈیفنس سندھ ریاض حسین لغاری، کمشنر سکھر ڈویژن عابد سلیم قریشی اور ڈپٹی کمشنر سکھر کی خصوصی ہدایات اور اسسٹنٹ کمشنر روہڑی کی نگرانی میں یہ جامع مہم چلائی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد عوامی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
اس مہم کے تحت سول ڈیفنس روہڑی کے آفس انچارج امتیاز بھٹو اور سینئر پوسٹ وارڈن آغا جبار خان پر مشتمل ٹیم نے تعلقہ اسپتال روہڑی کا خصوصی دورہ کیا۔ دورے کے دوران اسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات، ہنگامی صورتحال میں انخلاء کے راستوں، ایمرجنسی ایگزٹ، فائر فائٹنگ کے آلات اور آگ بجھانے والے سلنڈرز کی موجودگی اور ان کے فعال ہونے کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر تعلقہ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر شاہد حفیظ بھی ٹیم کے ہمراہ موجود تھے،
سول ڈیفنس حکام کے مطابق روہڑی کو ایک محفوظ شہر بنانے کے لیے فائر سیفٹی اور ایمرجنسی پروٹوکولز کے نفاذ کے لیے معائنوں کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی اور تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مارٹس، ایل پی جی کی دکانوں، پٹرول پمپس، نجی کلینکس، اسکولوں اور کالجز سمیت تمام ایسے مقامات جہاں شہریوں کا رش زیادہ ہوتا ہے، وہاں فائر سیفٹی ایس او پیز کی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی ہے۔
سینئر پوسٹ وارڈن آغا جبار خان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ فائر سیفٹی کے قوانین پر من و عن عملدرآمد، ہنگامی اخراج کے راستوں کی بلا تعطل دستیابی اور حفاظتی آلات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی اور عوامی سطح پر حفاظتی شعور کو فروغ کے لیے سول ڈیفنس روہڑی کی فیلڈ ٹیمیں اپنی کارروائیاں مزید تیز کریں گی تاکہ کسی بھی ناگہانی حادثے کی صورت میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔