حیدرآباد: سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد کے گنجان آباد علاقے قاسم آباد میں شیدی گوٹھ کے قریب اس وقت شدید خوف و ہراس پھیل گیا جب ایک بڑے سیوریج نالے میں اچانک گیس پائپ لائن پھٹنے سے زوردار دھماکا ہوا۔ یہ واقعہ مقامی رہائشیوں کے لیے انتہائی دہشت ناک ثابت ہوا، دھماکے کی آواز اتنی زیادہ تھی کہ دور دور تک لوگ خوفزدہ ہو کر اپنے گھروں اور دکانوں سے باہر سڑکوں پر نکل آئے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، دھماکا سیوریج کے نالے کے اندر بچھائی گئی سوئی سدرن گیس کی پائپ لائن میں ہونے والے کسی تکنیکی فالٹ یا دباؤ میں اضافے کے باعث پیش آیا، جس کی وجہ سے نالے کے اندر جمع ہونے والی گیس نے شدت اختیار کی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں، ریسکیو ٹیموں اور سوئی گیس کے متعلقہ حکام نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینا شروع کر دیا۔ خوش قسمتی سے، اس خطرناک حادثے کے نتیجے میں کسی بھی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، مقامی انتظامیہ اور گیس کمپنی کے انجینئز نے فوری طور پر متاثرہ لائن کی گیس سپلائی معطل کر دی تاکہ مزید کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور مرمتی کام کا جلد از جلد آغاز کیا جا سکے۔
دوسری جانب، اس خوفناک دھماکے کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں دھماکے کی شدت اور اس کے نتیجے میں اٹھنے والے غبار کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ وائرل ویڈیو نے سوشل میڈیا صارفین میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور شہری حلقوں کی جانب سے گیس پائپ لائنوں کے ناقص نظام اور شہر بھر میں سیوریج لائنوں کے قریب خطرناک انداز میں بچھائی گئی پائپ لائنوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ حیدرآباد کے تمام علاقوں میں گیس اور سیوریج لائنوں کی فوری طور پر جامع جانچ پڑتال کی جائے تاکہ اس طرح کے حادث کی مستقل روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔