پاکستان میں بڑھتی مہنگائی اور آمدنی میں کمی کے باعث عوام کے لیے متوازن اور صحت بخش خوراک خریدنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ملک کی 63 فیصد آبادی صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس تقریباً 16 کروڑ 10 لاکھ پاکستانی ایک وقت کی معیاری اور صحت بخش خوراک خریدنے سے قاصر رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ خوراک کی دستیابی سے زیادہ عوام کی قوتِ خرید کا ہے۔
2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستانی گھرانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہوگئی، تاہم اسی عرصے میں غربت کی لکیر بھی 3 ہزار 758 روپے سے بڑھ کر 8 ہزار 484 روپے فی کس ہوگئی۔
مہنگائی کو نکالنے کے بعد حقیقی آمدنی میں تقریباً 13 فیصد کمی ہوئی، جبکہ غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی۔
ماہرین کے مطابق کم آمدنی والے خاندان آٹا، چاول، دودھ اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں کے باعث خوراک کا استعمال کم کرنے پر مجبور ہیں۔ دال، دودھ، انڈے، سبزیاں، پھل اور گوشت جیسی متوازن غذا بھی کئی خاندانوں کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غذائی عدم تحفظ کا اثر صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بچوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔